Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شجر ہجر اور میں

روبینہ ایاز

شجر ہجر اور میں

روبینہ ایاز

MORE BYروبینہ ایاز

    تمہارا راستہ دیکھا ہے میں نے کتنے سالوں تک

    مگر تم خواب میں آئے حقیقت کیوں نہ بن پائے

    تمہارے دن بہ دن پیغام بھی آتے رہے تھے بس

    مگر تم تو نہیں آئے

    بھلا کیسی محبت ہے

    جو افسردہ ہے دل میرا

    سبب اس کا تو بس تم ہو

    مجھے تنہائیوں سے عشق ہونے لگ گیا تھا پھر

    تمہارے ہجر میں تنہا میں خود کو کر گئی بے حد

    تمہیں میں کیسے اپنا حال اپنی کیفیت کہتی

    بہت بے کیف تھے دن اور تھیں بے خواب سی راتیں

    سحر خیزی کی عادت جو نہ لگتی اور کیا ہوتا

    اچانک گھر سے میں نکلی

    قدم خود چل رہے تھے اور میں بے خود طبیعت تھی

    مرے گھر سے ہی تھوڑی دور تھا پیارا سا باغیچہ

    جہاں میں روز جاتی تھی

    اور اس باغیچے میں اک بنچ پر میں بیٹھ جاتی تھی

    اسی پورب کی جانب ایک پھولوں کا شجر بھی تھا

    نظر اس پر پڑی تو یوں لگا وہ بات کرتا ہے

    میں اس کی سمت کھنچتی کیوں گئی حیرت میں تھی

    میں بھی

    میں اک ٹک اس کو دیکھے جا رہی تھی پھر اچانک سے

    مجھے ایسا لگا کہ اس نے پوچھا کون ہو پیاری

    میں نم آنکھوں سے مسکائی کہا ہوں صنف نازک میں

    مگر اتنی ہی بے دردی سے اس نے دل کو توڑا ہے

    سنانے میں لگی پھر اس کو اپنا سارا حال دل

    شجر کی شکل میں محسن ملا تھا بعد مدت کے

    بہت ہی خوبصورت سلسلہ ہر روز چل نکلا

    میں جس سے بیٹھ کر کرتی ہی رہتی تھی تری باتیں

    مسلسل جو مرے ہر غم میں میرے ساتھ رہتا تھا

    تڑپ میری مرے آنسو سبھی محسوس کرتا تھا

    ہوا کے ساتھ اس نے جھومنا بھی ترک کر ڈالا

    اور اس نے شاخ سے اپنے سبھی پتے گرا ڈالے

    مرے ہر درد سے دل اپنا بھاری کر لیا اس نے

    مرے غم کو بھی اس نے خود پہ طاری کر لیا جیسے

    میں اپنی ہر خوشی ہر غم کو اس سے بانٹتی آئی

    میں تیرے ہجر میں اس بار تنہا تھی نہیں جاناں

    شجر نے بھی تو میرے ساتھ تیرا ہجر کاٹا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے