نظم
جب کبھی تجھ کو خیالات میں لے آتا ہوں
جانے کیوں خود ہی پریشان سا ہو جاتا ہوں
کیا گزرتی ہے مرے دل پہ بتاؤں کس کو
جیسے مجرم ہوں یہی سوچ کے گھبراتا ہوں
دل تو کہتا ہے کہ آنکھوں میں سما جاؤں تری
پر کروں کیا نہ کروں کچھ نہ سمجھ پاتا ہوں
تو مرے فکر و خیالات میں رہتی ہے مگر
سوچ کر میں کسی انجام سے ڈر جاتا ہوں
جیسی دنیا ہے تری ویسا ہی سنسار میرا
وصل ممکن ہی نہیں یہ تجھے سمجھاتا ہوں
تجھ کو معلوم ہے مجبوریاں میری کیا ہیں
میں حدیں دیکھ کے خود تیری لرز جاتا ہوں
تیری نگری ہے الگ میرا بھی قریہ ہے جدا
تو کسی کی میں کہیں اور گنا جاتا ہوں
کیسے چاہوں گا تو دہلیز حیا کی لانگھے
بس یہی سوچ کے تو تجھ سے میں کتراتا ہوں
دوست بن جائیں چلیں زیست سنواریں اپنی
میں بھی با ظرف ہوں تجھ میں بھی حیا پاتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.