Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظم

MORE BYارشاد دہلوی

    جب کبھی تجھ کو خیالات میں لے آتا ہوں

    جانے کیوں خود ہی پریشان سا ہو جاتا ہوں

    کیا گزرتی ہے مرے دل پہ بتاؤں کس کو

    جیسے مجرم ہوں یہی سوچ کے گھبراتا ہوں

    دل تو کہتا ہے کہ آنکھوں میں سما جاؤں تری

    پر کروں کیا نہ کروں کچھ نہ سمجھ پاتا ہوں

    تو مرے فکر و خیالات میں رہتی ہے مگر

    سوچ کر میں کسی انجام سے ڈر جاتا ہوں

    جیسی دنیا ہے تری ویسا ہی سنسار میرا

    وصل ممکن ہی نہیں یہ تجھے سمجھاتا ہوں

    تجھ کو معلوم ہے مجبوریاں میری کیا ہیں

    میں حدیں دیکھ کے خود تیری لرز جاتا ہوں

    تیری نگری ہے الگ میرا بھی قریہ ہے جدا

    تو کسی کی میں کہیں اور گنا جاتا ہوں

    کیسے چاہوں گا تو دہلیز حیا کی لانگھے

    بس یہی سوچ کے تو تجھ سے میں کتراتا ہوں

    دوست بن جائیں چلیں زیست سنواریں اپنی

    میں بھی با ظرف ہوں تجھ میں بھی حیا پاتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے