نظم
تیری آنکھوں میں سحر ہنستی تھی
تیرے ہونٹوں پہ مہکتے تھے گلاب
تیری ہر سانس میں چلتی تھی نسیم
تیری زلفوں میں مچلتی تھی ضیائے مہتاب
دل میں اک ہوک اٹھی
کاش میں اپنا بنا لوں تجھ کو
خلش روح کو آسودہ کروں
جسم سوزاں سے لگا لوں تجھ کو
سفر شوق میں موجوں کی طرح ساتھ رہے
ہاتھ میں ہاتھ رہے
ہم سیہ رات کی پہنائی میں
دو ستارے تھے مگر ایک ہوئے
درد نے درد کو ہمراز کیا
اشک اشکوں سے ملے دیدۂ تر ایک ہوئے
اب ترا غم نہ ترا ہے نہ مرا غم میرا
ایک غم ہے جو ہمارا غم ہے
غم انساں ہے جہاں کا غم ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.