والد گرامی
یہ وہ چہرہ ہے جسے میں نے پڑھا ہے برسوں
دوسری کوئی کتاب ایسی نہ دیکھی میں نے
اس کی تصویر کشی مجھ سے نہ ہو پائے گی
حرف ایسے ہیں کہ دھاگے میں پروئے موتی
لفظ در لفظ وہ حکمت ہے کہ سبحان اللہ
اس کے فقروں میں ہے آباد جہان معنی
اس کی ہر سطر ہے مجموعۂ اسرار نجوم
جو کہ احوال بتا دیتی ہے مستقبل کا
اس کے صفحات نگاہوں کے لئے ٹھنڈک ہیں
اس نے دنیا کی چکا چوند سے آگاہ کیا
اس نے بھٹکایا نہیں راہ نمائی کی ہے
اس نے اپنوں کے تغافل کا ستم جھیلا ہے
پھر بھی یہ فائدہ پہنچاتی رہی ہے سب کو
ہاں مگر شکوہ کناں یہ کبھی دیکھی نہ گئی
آندھیاں آئیں تو آلام و حوادث کی مگر
اس کے دامن کو مگر کر نہ سکیں گرد آلود
آج بھی اس کی تب و تاب وہی ہے جو کہ تھی
للہ الحمد کہ اس نے مجھے بخشی یہ کتاب
یہ دعا ہے کہ سلامت رہے اس کی تب و تاب
ہے گزارش اسے پڑھ کر کہیں آمین احباب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.