دوستی
دوستی رات میں اجالا ہے
دوست آنکھوں کا نور ہوتا ہے دوستی بے غرض محبت ہے
جب بھی تنہائی شب میں ڈستی ہے
دوست کی یاد خوب آتی ہے
دل کی ہر بات دوست سے کیجے
دوستی میں سکون ہے دل کا
دوست سرمایۂ حیات بھی ہے دل سے ہوتا نہیں کبھی وہ جدا
جیسے خوشبو گلوں کے ساتھ رہے
جیسے پانی میں مسکرائے کنول
دوست دو جسم تو علیحدہ ہیں
دل دھڑکتا ہے ایک ساتھ مگر
ان کا ملنا
سکوں کا باعث ہے
آج لیکن وہ دوستی ہے کہاں
عیش و عشرت میں سب ہیں دوست مگر
مفلسی میں کہاں ہے دوست کوئی
شمع جلتی ہے
جب تو پروانے اس کے نزدیک اڑتے رہتے ہیں
اور جاں بھی نثار کرتے ہیں
شمع بجھتی ہے جس گھڑی یارو
پاس آتے نہیں ہیں پروانے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.