یہ اردو مری شان ہے
یہ اردو مری شان ہے
یہ اردو مری جان ہے
یہ غالبؔ کی غزلوں کی رانی بنی ہے
یہ قصہ بنی ہے کہانی بنی ہے
کہ حالیؔ نے اس کو سجایا سنوارا
تو اقبالؔ نے ہر طرح سے نکھارا
یہ امن کا ارمان ہے
کبھی اس کو اپنا بنا کر تو دیکھو
کہ لفظوں میں اپنے سجا کر تو دیکھو
یہی گفتگو کو شرف بخش دے گی
لطافت ہمیشہ زباں میں رہے گی
بہت پیاری آسان ہے
کسی قوم کے ساتھ جوڑا نہ جائے
اسے ہاتھ میں لے کے چھوڑا نہ جائے
کرو اس سے الفت کہ جیسے یہ ماں ہے
یہی ہندوی ہے جو اردو زباں ہے
یہ کیا کوئی مہمان ہے
سبھی کو محبت سکھا دی ہے اس نے
جہاں بات بگڑی بنا دی ہے اس نے
زباں جو ہے تہذیب کا اک حوالہ
زباں ریختہ ہے مگر سب سے اعلیٰ
یہی سب کی پہچان ہے
بتائیں تمہیں کیا ہے اردو کی وسعت
ہے سارے جہاں میں اسی کی حکومت
یہ آب حیات ایسا ہے کیا کہیں ہم
کہ اردو ہی بولیں تو زندہ رہیں ہم
دعا ہے یہ وردان ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.