جنون آزادی
عزم پیما ستم اٹھانا تھا
غم پہ سو بار غم بھی کھانا تھا
قوم کا حوصلہ بڑھانا تھا
جان دینی تھی گھر بچانا تھا
ملک میں نام کر کے جانا تھا
ذوق حب وطن دکھانا تھا
پھر مذاق سخن دکھانا تھا
پھر کوئی تازہ گل کھلانا تھا
ہنسنے والوں کو پھر رلانا تھا
رونے والوں کو پھر ہنسانا تھا
ہو کے آزاد مسکرانا تھا
شادمانی کا نغمہ گانا تھا
سر میں ہوتا جنون آزادی
توڑ دیتا تھا دام صیادی
دیکھنی تھی نہ خانہ بربادی
ہوتا ویرانہ رشک آزادی
تنکے چن چن کے گھر بنانا تھا
اپنا اجڑا وطن بسانا تھا
وہ بھی دن تھے کہ کامیاب تھے ہم
وہ بھی دن تھے کہ باریاب تھے ہم
ملک صنعت پہ فتح یاب تھے ہم
دور حرفت میں انتخاب تھے ہم
اپنے ہاتھوں میں ہر خزانہ تھا
وہ زمانہ بھی اک زمانا تھا
ہم وہی ہیں کہ تھا وطن اپنا
ہر طرح سے تھا من و عن اپنا
پھول اپنے تھے اور چمن اپنا
اپنا جامہ تھا اور تن اپنا
اپنا پہنا تھا اپنا کھانا تھا
اپنا پانی تھا اپنا دانہ تھا
ٹہنی ٹہنی کو بارہا دیکھا
پھول کانٹے کو ایک جا دیکھا
غنچے غنچے کو لب کشا دیکھا
پتے پتے کو ہم نوا دیکھا
جس زباں پر بھی جو فسانا تھا
اپنے ہی ملک کا ترانہ تھا
حاصل قیل و قال دیکھ لیا
اہل دنیا کا حال دیکھ لیا
دوستی کا مآل دیکھ لیا
کر کے چاہت جمالؔ دیکھ لیا
دل لگانا تو اک بہانا تھا
الغرض مطلبی زمانا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.