حصار جنگ
صلیب آراستہ مقتل چراغاں ہے جہاں میں ہوں
ادھر تم ہو ادھر دنیا کھڑی ہے درمیاں میں ہوں
شکایت کیا کروں مجھ پر اگر پتھر برستے ہیں
میں اپنے آپ کو شاخ ثمر ور کہہ کے ہنستا ہوں
سراپا تم ہو میری جان و دل سے میں تمہارا ہوں
جو دوری ہے تو دوری کو مقدر کہہ کے ہنستا ہوں
تمہیں اندیشۂ رسوائی و خوف جہاں ہوگا
مگر مجھ سے بہت دن تک خود آزادی نہیں ہوگی
تم اک دیوار ہو میں زیر سایہ ہوں بجا لیکن
مجھے سر مار کر مرنے میں دشواری نہیں ہوگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.