Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں شاعر کب ہوں

غلام عباس ساغر

میں شاعر کب ہوں

غلام عباس ساغر

MORE BYغلام عباس ساغر

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو محض اک خواب ہوں بکھرا ہوا سا

    اک خامشی کی شاخ پہ ٹھہرا ہوا سا

    اک بے صدا لمحہ جو بولے تو ٹوٹ جائے

    اک آئنے جیسا جو دیکھے تو چھوٹ جائے

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو لفظوں کے بیج بو نہ سکا

    خیالوں کے کھیت میں سو نہ سکا

    میں تو احساس کا وہ پیاسا ہوں

    جو جذبوں کی نہر بھی پی لے

    پھر بھی سیراب نہ ہو پائے

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو بارش کی بوند جیسا ہوں

    جو مٹی سے بات کرتا ہے

    پھر خود ہی مٹی میں کھو جاتا ہے

    میں تو جگنو سا اک پرانا خیال ہوں

    جو رات کے آنچل میں ٹمٹماتا ہے

    میں شاعر کب ہوں

    میرے مصرعے ادھورے ہیں

    میری بحریں بغاوت کرتی ہیں

    میرے قافیے چھپ جاتے ہیں

    جب میں درد کو پکارنے لگتا ہوں

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو اک تنہا گلی کا چراغ ہوں

    جو ہوا سے لرزتا ہے

    مگر بجھنے سے انکار کرتا ہے

    میں تو وہ خط ہوں جو بھیجا نہ گیا

    پر جذبات سے لکھا گیا

    میں شاعر کب ہوں

    میرے اشعار میں ہنر نہیں

    بس زخموں کی آواز ہے

    میرے الفاظ میں زور نہیں

    بس دل کے کچھ راز ہیں

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو خوابوں کا دریا ہوں

    جس میں تمثیلیں بہتی ہیں

    جس کی موجیں کبھی سچ کبھی فسانہ کہتی ہیں

    میں شاعر کب ہوں

    میں تو ساغرؔ ہوں

    جو لفظوں کی تلاش میں بھٹکا ہے

    جو خیالوں کی راہوں میں رکا ہے

    جو ہر نظم میں خود سے ملا ہے

    پھر بھی خود کو نہ پا سکا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے