میں شاعر کب ہوں
میں شاعر کب ہوں
میں تو محض اک خواب ہوں بکھرا ہوا سا
اک خامشی کی شاخ پہ ٹھہرا ہوا سا
اک بے صدا لمحہ جو بولے تو ٹوٹ جائے
اک آئنے جیسا جو دیکھے تو چھوٹ جائے
میں شاعر کب ہوں
میں تو لفظوں کے بیج بو نہ سکا
خیالوں کے کھیت میں سو نہ سکا
میں تو احساس کا وہ پیاسا ہوں
جو جذبوں کی نہر بھی پی لے
پھر بھی سیراب نہ ہو پائے
میں شاعر کب ہوں
میں تو بارش کی بوند جیسا ہوں
جو مٹی سے بات کرتا ہے
پھر خود ہی مٹی میں کھو جاتا ہے
میں تو جگنو سا اک پرانا خیال ہوں
جو رات کے آنچل میں ٹمٹماتا ہے
میں شاعر کب ہوں
میرے مصرعے ادھورے ہیں
میری بحریں بغاوت کرتی ہیں
میرے قافیے چھپ جاتے ہیں
جب میں درد کو پکارنے لگتا ہوں
میں شاعر کب ہوں
میں تو اک تنہا گلی کا چراغ ہوں
جو ہوا سے لرزتا ہے
مگر بجھنے سے انکار کرتا ہے
میں تو وہ خط ہوں جو بھیجا نہ گیا
پر جذبات سے لکھا گیا
میں شاعر کب ہوں
میرے اشعار میں ہنر نہیں
بس زخموں کی آواز ہے
میرے الفاظ میں زور نہیں
بس دل کے کچھ راز ہیں
میں شاعر کب ہوں
میں تو خوابوں کا دریا ہوں
جس میں تمثیلیں بہتی ہیں
جس کی موجیں کبھی سچ کبھی فسانہ کہتی ہیں
میں شاعر کب ہوں
میں تو ساغرؔ ہوں
جو لفظوں کی تلاش میں بھٹکا ہے
جو خیالوں کی راہوں میں رکا ہے
جو ہر نظم میں خود سے ملا ہے
پھر بھی خود کو نہ پا سکا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.