ہجر کی رات میں
تم گئے تھے
جیسے دریا کنارے سے ریت چھین لے
جیسے ہوا پتے سے سرگوشی کیے بغیر
بس گزر جائے
میں وہ درخت ہوں
جس کی شاخوں پر اب صرف سناٹے اگتے ہیں
پتے خاموش ہیں
پر ہر خاموشی میں تمہارا نام گونجتا ہے
ہجر یہ کوئی فاصلہ نہیں
یہ ایک ایسی آگ ہے
جو اندر ہی اندر جلتی ہے
اور کوئی دھواں بھی نہیں ہوتا
کہ دنیا کو دکھا سکوں
کہ دیکھو میں جل رہا ہوں
رات کی گود میں لیٹ کر
میں اکثر تمہارے نام کی لوریاں سنتا ہوں
اور نیند میری آنکھوں سے کہتی ہے
وہ جو خواب بن کے آتا تھا
آج اسے بھی ہجر ہو گیا ہے
میں اب لفظ نہیں لکھتا
محض خاموشیوں کو ترتیب دیتا ہوں
اور وہ سب تمہارا چہرہ بناتی ہیں
بے آواز مگر زندہ
ساغرؔ اب صرف تمہاری یاد سے بات کرتا ہے
کہ باقی سب بولنے والے
خالی شور ہیں
اور ہجر
ایک مکمل گفتگو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.