کاش
کاش
یہ لفظ کتنا چھوٹا ہے
مگر اس کے اندر
کتنی لمبی عمریں سوئی ہوتی ہیں
کاش ایسا ہوتا تو کیا ہوتا
کاش وقت کی رفتار
ذرا سی رک جاتی
کاش تقدیر کی پیشانی سے
کچھ سطریں مٹائی جا سکتیں
کاش زندگی کے کاغذ پر
نیا جملہ لکھنے کی اجازت ہوتی
کاش تم ملتے
تو یہ راستے اتنے سنسان نہ ہوتے
کاش تم ٹھہرتے
تو یہ لمحے اتنے بے معنی نہ ہوتے
کاش تم سمجھتے
تو یہ دل اتنا ویران نہ ہوتا
کاش
یہ لفظ اکثر
رات کی خاموشی میں آتا ہے
اور میرے دل کے دروازے پر
آہستہ آہستہ دستک دیتا ہے
کاش کے سائے تلے
زندگی کٹی ہے
کاش کے سائے میں
خواب بھی پلتے ہیں
اور حسرتیں بھی
کاش کے سائے میں
انسان جیتا بھی ہے
اور ٹوٹتا بھی
کاش صبحیں بدل جاتیں
کاش شامیں مہربان ہوتیں
کاش وقت کو
انسان کے دکھ کا احساس ہوتا
کاش تم
میری زندگی کا کاش ہوتے
پھر ہر کاش
ایک حقیقت بن جاتا
پھر ہر کاش
ایک دعا بن جاتا
پھر ہر کاش
دل کے اندر جلتی ہوئی
حسرت کا چراغ نہ ہوتا
کاش تم ہوتے
تو یہ رات اتنی لمبی نہ ہوتی
کاش تم ہوتے
تو یہ تنہائی اتنی گہری نہ ہوتی
کاش تم ہوتے
تو میری آنکھوں میں
اتنے اداس موسم نہ اترتے
کاش
یہ لفظ شاید
ان لوگوں کی ایجاد ہے
جن کے پاس
محبت تو تھی
مگر قسمت نہیں تھی
کاش
یہ لفظ شاید
ان دلوں کی صدا ہے
جو کسی کو چاہتے تھے
مگر پا نہ سکے
اور اب
میری پوری زندگی
ایک لمبی سانس کی طرح ہے
جس کے شروع میں بھی
اور آخر میں بھی
صرف ایک ہی لفظ رہ گیا ہے
کاش
کاش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.