Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کب آئی انبیا میں یہ شان مصطفائی

نظیر علی عدیل

کب آئی انبیا میں یہ شان مصطفائی

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    کب آئی انبیا میں یہ شان مصطفائی

    اک ہاتھ میں رسالت اک ہاتھ میں خدائی

    خلوت میں جب خدا تھا مصروف رونمائی

    سرکار کو وہاں بھی امت کی یاد آئی

    خود ہی ظہور اول خود ہی ظہور آخر

    وہ شان ابتدائی یہ شان انتہائی

    دنیا ہے جس سے روشن وہ نور آپ کا ہے

    شمس و قمر تو ہیں خود اس نور کے فدائی

    اللہ رے ان کے گیسو اللہ رے ان کے عارض

    تعریف کی نہ رب نے جب تک قسم نہ کھائی

    دیکھا نبیؐ نے رب کو رب نے نبی کو دیکھا

    معراج میں تھی گویا دو طرفہ رونمائی

    دیکھا ہے جب سے ان کو حیرت زدہ ہے نرگس

    اک پل نہ آنکھ جھپکی اک پل نہ نیند آئی

    کرنا پڑا ہے اس کو معراج کا بہانہ

    پہنچی عروج پر جب محبوب کی جدائی

    اک نسبت قدم نے قسمت بدل کے رکھ دی

    نعلین جیسی شے نے کی عرش تک رسائی

    اللہ کے بعد ان سے کوئی بڑا نہیں ہے

    پایا ہے بندگی میں انداز کبریائی

    کیوں فکر مغفرت ہے تم کو عدیلؔ آخر

    جب ان کے ہاتھ میں ہے محشر کی کاروائی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے