کب آئی انبیا میں یہ شان مصطفائی
کب آئی انبیا میں یہ شان مصطفائی
اک ہاتھ میں رسالت اک ہاتھ میں خدائی
خلوت میں جب خدا تھا مصروف رونمائی
سرکار کو وہاں بھی امت کی یاد آئی
خود ہی ظہور اول خود ہی ظہور آخر
وہ شان ابتدائی یہ شان انتہائی
دنیا ہے جس سے روشن وہ نور آپ کا ہے
شمس و قمر تو ہیں خود اس نور کے فدائی
اللہ رے ان کے گیسو اللہ رے ان کے عارض
تعریف کی نہ رب نے جب تک قسم نہ کھائی
دیکھا نبیؐ نے رب کو رب نے نبی کو دیکھا
معراج میں تھی گویا دو طرفہ رونمائی
دیکھا ہے جب سے ان کو حیرت زدہ ہے نرگس
اک پل نہ آنکھ جھپکی اک پل نہ نیند آئی
کرنا پڑا ہے اس کو معراج کا بہانہ
پہنچی عروج پر جب محبوب کی جدائی
اک نسبت قدم نے قسمت بدل کے رکھ دی
نعلین جیسی شے نے کی عرش تک رسائی
اللہ کے بعد ان سے کوئی بڑا نہیں ہے
پایا ہے بندگی میں انداز کبریائی
کیوں فکر مغفرت ہے تم کو عدیلؔ آخر
جب ان کے ہاتھ میں ہے محشر کی کاروائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.