نظر رسول کی ایسا کمال کرتی ہے
نظر رسول کی ایسا کمال کرتی ہے
شجر کو سبز گلابوں کو لال کرتی ہے
مرے شعور کے گلشن میں پھول کھلتے ہیں
ترے خیال کی خوشبو کمال کرتی ہے
نبی کے ذکر کی محفل سجانے لگتا ہوں
کوئی بھی فکر مجھے جب نڈھال کرتی ہے
زباں تو رہتی ہے خاموش ان کے روضے پر
نگاہ شوق مگر عرض حال کرتی ہیں
وہ ذات ذات رسالت مآب ہے واللہ
جو اندھے شیشوں میں پیدا جمال کرتی ہے
وہ ایک گونج محمد کے نام کی شاکرؔ
عدو کے حوصلے کو پائمال کرتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.