محمد مصطفیٰ کا جب کسی کے لب پہ نام آیا
محمد مصطفیٰ کا جب کسی کے لب پہ نام آیا
فرشتوں کی مبارک باد حوروں کا سلام آیا
بقدر عقل دی توحید کی تعلیم دنیا کو
عجب انداز سے یہ رہبر ہر خاص و عام آیا
جفا سہہ کر وفا کی گالیاں سن کر دعاؤں میں
مرے مولا کے دل میں جب خیال انتقام آیا
برے ان کے بھلے اللہ کے ہیں تو گنہ گارو
تمہیں کیوں خوف دوزخ ہے جو یہ اعلان عام آیا
محمد حامد و محمود و احمد اسم اعظم ہیں
یہ نام آئے زباں پر کامرانی کا پیام آیا
مدینہ ایسی ارض پاک جس کے ذرے ذرے پر
ملائک سر بہ سجدہ ہو گئے جب یہ مقام آیا
نہ رکھی جس نے نسبت سرور کونین سے تاباںؔ
نہ دنیا اس کے کام آئی نہ عقبیٰ اس کے کام آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.