ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
سحر بلرام پوری
MORE BYسحر بلرام پوری
ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
آخری سانس تک نام ان کا جپوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
بے قراری کی ہر چال ناکام ہے کیا بتاؤں مجھے کتنا آرام ہے
آپ کی یاد ہے میرے دل کا سکوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
اہل دنیا جو کہتے ہیں کہتے رہیں طعن و تشنیع کرتے ہیں کرتے رہیں
جیسا وہ چاہتے ہیں میں ویسا بنوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
خاک نام و نمود و نمائش مرے پاؤں کو گرد آلود کرنے نہ پائے
صرف ان کے لئے ہی میں نعتیں کہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
کس لئے نام و رتبے کی خواہش کروں کیوں میں اپنی تباہی کے پیچھے پڑوں
کیا یہ کم ہے کہ میں ان کی امت میں ہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
ان کی مدح و ثنا میں گزرتی رہے زندگی کا اثاثہ ٹھکانے لگے
حشر میں سرخ روئی کا ساماں کروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
موت کے بعد جو ساعت دید ہے در حقیقت وہ میرے لئے عید ہے
شوق دیدار ہو لمحہ لمحہ فزوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
قبر یا حشر یا وقت میزان ہو حوض کوثر ہو یا منزل پل صراط
ہر جگہ آپ کے زیر سایہ رہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
ہے دریدہ لباس تخیل اگر تو یہ غم کی علامت نہیں ہے سحرؔ
یاد جاناں کی سوئی سے اس کو سیوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.