Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

سحر بلرام پوری

ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

سحر بلرام پوری

MORE BYسحر بلرام پوری

    ان کی خاطر جیوں ان کی خاطر مروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    آخری سانس تک نام ان کا جپوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    بے قراری کی ہر چال ناکام ہے کیا بتاؤں مجھے کتنا آرام ہے

    آپ کی یاد ہے میرے دل کا سکوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    اہل دنیا جو کہتے ہیں کہتے رہیں طعن و تشنیع کرتے ہیں کرتے رہیں

    جیسا وہ چاہتے ہیں میں ویسا بنوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    خاک نام و نمود و نمائش مرے پاؤں کو گرد آلود کرنے نہ پائے

    صرف ان کے لئے ہی میں نعتیں کہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    کس لئے نام و رتبے کی خواہش کروں کیوں میں اپنی تباہی کے پیچھے پڑوں

    کیا یہ کم ہے کہ میں ان کی امت میں ہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    ان کی مدح و ثنا میں گزرتی رہے زندگی کا اثاثہ ٹھکانے لگے

    حشر میں سرخ روئی کا ساماں کروں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    موت کے بعد جو ساعت دید ہے در حقیقت وہ میرے لئے عید ہے

    شوق دیدار ہو لمحہ لمحہ فزوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    قبر یا حشر یا وقت میزان ہو حوض کوثر ہو یا منزل پل صراط

    ہر جگہ آپ کے زیر سایہ رہوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    ہے دریدہ لباس تخیل اگر تو یہ غم کی علامت نہیں ہے سحرؔ

    یاد جاناں کی سوئی سے اس کو سیوں مجھ کو اس کے سوا کچھ نہیں چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے