جب وہ زلفیں رخ انور سے ہٹا دیتے ہیں
جب وہ زلفیں رخ انور سے ہٹا دیتے ہیں
دیکھنے والوں کو دیوانہ بنا دیتے ہیں
نوع انسانی میں دیکھا نہ رحیم ان جیسا
ظلم سہہ کر بھی ستم گر کو دعا دیتے ہیں
ان میں روشن ہوئے جاتے ہیں ہدایت کے چراغ
میرے آقا جنہیں قرآن سنا دیتے ہیں
اس کی بگڑی ہوئی تقدیر سنور جاتی ہے
آپ جس کے لیے بھی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں
اس کو مستانہ بنا دیتے ہیں شاہ بطحا
اپنی آنکھوں کے جسے جام پلا دیتے ہیں
دل عشاق تڑپ جاتے ہیں صفدرؔ اس دم
آپ جب زلف کو چہرے پہ گرا دیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.