دل نے پہلے در آقا کی عقیدت پائی
دل نے پہلے در آقا کی عقیدت پائی
تب کہیں جا کے ذرا نعت کی نعمت پائی
اپنے شانوں پہ کیا فرض وہ دست شفقت
جسم میں جان پڑی سانس نے ہمت پائی
شکر صد شکر غلاموں میں گنا جاتا ہوں
شکر صد شکر کہ آقا کی محبت پائی
ورنہ گمنامی ہی گمنامی مقدر تھی مرا
آپ کے فیض سے دنیا میں یہ شہرت پائی
آپ کی بات چلی درد ہوئے ختم سبھی
آپ کا نام لیا زیست میں راحت پائی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.