سوتے ہی اپنے بستر پر
سوتے ہی اپنے بستر پر
ہوتے ہیں ہم اس کے گھر پر
زلفوں کا سایہ ساغر پر
کہرا چھایا ہے منظر پر
بام پہ وہ ہم راہگزر پر
برتر کا پرتو کمتر پر
طنزیں کب تک اس کافر پر
جونک نہیں لگتی پتھر پر
کل تھا لیکن آج نہیں ہے
طاقت ور کا ٹھینگا سر پر
ہم پر تیری تنقیدیں کیا
شیشے کا حملہ پتھر پر
ہر منظر کچھ ڈھارس دے گا
نظریں رکھیے ہر منظر پر
آپ کا ہر ارشاد غلط بھی
پلکوں پر آنکھوں پر سر پر
شادؔ جنہیں ہم سے نفرت ہے
ہم کیوں جائیں ان کے گھر پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.