Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شوریدہ سری نوحہ گری کوہ کنی ہے

احمد رئیس

شوریدہ سری نوحہ گری کوہ کنی ہے

احمد رئیس

MORE BYاحمد رئیس

    شوریدہ سری نوحہ گری کوہ کنی ہے

    یہ دل کی لگی دل کی لگی دل کی لگی ہے

    ایسے نہ سلگتے ہوئے شعلوں کو ہوا دے

    چلمن سے کوئی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہے

    آنکھوں میں ابھی بھی ہیں کئی خواب ادھورے

    یادوں کی کوئی لہر بھی اشکوں میں ڈھلی ہے

    اس دل کے اندھیرے میں اگے گا نہیں سورج

    امید کا ہر دیپ ہر اک شمع بجھی ہے

    کیا رنگ دکھائے گی مجھے گردش دوراں

    فریاد و فغاں آہ میں بھی بے اثری ہے

    باہر سے لگے ذات مری شہر خموشاں

    اندر سے مری روح مگر چیخ اٹھی ہے

    انساں ہے یہاں آج بھی انسان کا دشمن

    تم نے تو کہا تھا یہ محبت کی صدی ہے

    اے کاش کہ ہوتا میں مقدر کا سکندر

    پر پاؤں میں تقدیر کی زنجیر پڑی ہے

    سفاک و ستم گر تجھے کہتا ہے زمانہ

    ایسی نہ کوئی بات مرے دل نے سنی ہے

    ممکن ہی نہیں باد صبا اتنی ہو دلکش

    یہ غیر کی محفل میں تری بات چلی ہے

    پوچھا کہ ہے کیسے گل و گلزار معطر

    پھولوں نے کہا ہے کہ کوئی زلف کھلی ہے

    مرنے پہ مرے ایسے نہ تم اشک بہاؤ

    چہرے سے عیاں ہے کہ تمہیں کتنی خوشی ہے

    آیا نہ تجھے شعر میں لفظوں کو پرونا

    کیا اس سے بڑی اور کوئی بے ہنری ہے

    الہام کے مانند لگا شعر یہ میرا

    جب درد کی چادر مرے لفظوں نے بنی ہے

    چھیڑا ہے رئیسؔ اس نے جو ماضی کا فسانہ

    سینے میں جوانی کی وہی آگ جلی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے