شوریدہ سری نوحہ گری کوہ کنی ہے
شوریدہ سری نوحہ گری کوہ کنی ہے
یہ دل کی لگی دل کی لگی دل کی لگی ہے
ایسے نہ سلگتے ہوئے شعلوں کو ہوا دے
چلمن سے کوئی آنکھ مجھے دیکھ رہی ہے
آنکھوں میں ابھی بھی ہیں کئی خواب ادھورے
یادوں کی کوئی لہر بھی اشکوں میں ڈھلی ہے
اس دل کے اندھیرے میں اگے گا نہیں سورج
امید کا ہر دیپ ہر اک شمع بجھی ہے
کیا رنگ دکھائے گی مجھے گردش دوراں
فریاد و فغاں آہ میں بھی بے اثری ہے
باہر سے لگے ذات مری شہر خموشاں
اندر سے مری روح مگر چیخ اٹھی ہے
انساں ہے یہاں آج بھی انسان کا دشمن
تم نے تو کہا تھا یہ محبت کی صدی ہے
اے کاش کہ ہوتا میں مقدر کا سکندر
پر پاؤں میں تقدیر کی زنجیر پڑی ہے
سفاک و ستم گر تجھے کہتا ہے زمانہ
ایسی نہ کوئی بات مرے دل نے سنی ہے
ممکن ہی نہیں باد صبا اتنی ہو دلکش
یہ غیر کی محفل میں تری بات چلی ہے
پوچھا کہ ہے کیسے گل و گلزار معطر
پھولوں نے کہا ہے کہ کوئی زلف کھلی ہے
مرنے پہ مرے ایسے نہ تم اشک بہاؤ
چہرے سے عیاں ہے کہ تمہیں کتنی خوشی ہے
آیا نہ تجھے شعر میں لفظوں کو پرونا
کیا اس سے بڑی اور کوئی بے ہنری ہے
الہام کے مانند لگا شعر یہ میرا
جب درد کی چادر مرے لفظوں نے بنی ہے
چھیڑا ہے رئیسؔ اس نے جو ماضی کا فسانہ
سینے میں جوانی کی وہی آگ جلی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.