دل خوں ہوا ہے شوخیٔ رنگ حنا کے ساتھ
دل خوں ہوا ہے شوخیٔ رنگ حنا کے ساتھ
ہے معنیٔ بلند بھی طرز ادا کے ساتھ
چٹکا جو دل تو مثل گل تر بکھر گیا
خوشبو صبا کے ساتھ تھی نغمہ صدا کے ساتھ
یہ حال ہے چمن میں کہ اب مثل برگ خشک
آوارہ ایک عمر سے ہیں ہم ہوا کے ساتھ
زلفیں ادھر کھلیں ادھر آنسو امنڈ پڑے
ہیں سب کے اپنے اپنے روابط گھٹا کے ساتھ
تم رنگ تھے تو خوئے وفا تھی گلوں میں تھے
خوشبو بنے تو اڑ گئے موج صبا کے ساتھ
آہٹ پہ کان راہ میں آنکھیں بچھی ہوئی
ہم دور تک چلے تری آواز پا کے ساتھ
سنکی ہوا تو شورش زنداں بھی بڑھ گئی
دل وجد میں ہے نغمۂ زنجیر پا کے ساتھ
ہے انتہائے شوق بھی بے راہیوں کا باب
ہم تھوڑی دور چلتے ہیں ہر رہنما کے ساتھ
باقرؔ تمہارا شہر میں ضامن بنے گا کون
کچھ نقد بھی تو چاہیے جنس وفا کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.