دکھاوے کی محبت سے سنہرے پل نہیں آتے
دکھاوے کی محبت سے سنہرے پل نہیں آتے
کبھی بھی جھوٹ کی ڈالی پہ سچے پھل نہیں آتے
سبھی کے فیض کی خاطر ہی یہ برسات ہوتی ہے
کسی کی چار دیواری میں تو بادل نہیں آتے
مری کڑوی زباں سے تم مری پہچان مت کرنا
مجھے غصہ تو آتا ہے مگر چھل ول نہیں آتے
تمہیں ملنے کی خواہش ہی یہاں تک کھینچ لاتی ہے
وگرنہ کون جاتا ہے جہاں سگنل نہیں آتے
تری یادوں نے اس دل کو کچھ ایسے باندھ رکھا ہے
اکیلے بھی اگر دوڑیں تو ہم اول نہیں آتے
یہاں بیٹھو ہمارے پاس میں باتیں کرو ہم سے
چلے جاتے ہیں جو اک بار پھر وہ پل نہیں آتے
اگر حل جانتے ہو پھر تمہیں یہ مشکلیں کیا ہیں
انہی کو دقتیں ہوتی ہیں جن کو حل نہیں آتے
ستانا بے زبانوں کو تمہیں بھاری نہ پڑ جائے
تمہارے راستوں میں کیا کبھی جنگل نہیں آتے
کئی ہشیار آتے ہیں ہمیں پاگل بنانے کو
ہمیشہ پاگلوں کے بھیس میں پاگل نہیں آتے
بہو بیٹی ہماری رزق کو ماتھے لگاتی ہے
ہمارے پاؤں کے نیچے کبھی چاول نہیں آتے
کسی کا مرتبہ کوئی بھی کیسے چھین سکتا ہے
ہرے ہوتے بھی ہیں تو سبزیوں میں پھل نہیں آتے
پہن کے ہم انہیں بچپن ترے کوچے میں آ جاتے
مگر اب پاؤں میں چھوٹے سے یہ چپل نہیں آتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.