Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دکھاوے کی محبت سے سنہرے پل نہیں آتے

آصف مرزا

دکھاوے کی محبت سے سنہرے پل نہیں آتے

آصف مرزا

MORE BYآصف مرزا

    دکھاوے کی محبت سے سنہرے پل نہیں آتے

    کبھی بھی جھوٹ کی ڈالی پہ سچے پھل نہیں آتے

    سبھی کے فیض کی خاطر ہی یہ برسات ہوتی ہے

    کسی کی چار دیواری میں تو بادل نہیں آتے

    مری کڑوی زباں سے تم مری پہچان مت کرنا

    مجھے غصہ تو آتا ہے مگر چھل ول نہیں آتے

    تمہیں ملنے کی خواہش ہی یہاں تک کھینچ لاتی ہے

    وگرنہ کون جاتا ہے جہاں سگنل نہیں آتے

    تری یادوں نے اس دل کو کچھ ایسے باندھ رکھا ہے

    اکیلے بھی اگر دوڑیں تو ہم اول نہیں آتے

    یہاں بیٹھو ہمارے پاس میں باتیں کرو ہم سے

    چلے جاتے ہیں جو اک بار پھر وہ پل نہیں آتے

    اگر حل جانتے ہو پھر تمہیں یہ مشکلیں کیا ہیں

    انہی کو دقتیں ہوتی ہیں جن کو حل نہیں آتے

    ستانا بے زبانوں کو تمہیں بھاری نہ پڑ جائے

    تمہارے راستوں میں کیا کبھی جنگل نہیں آتے

    کئی ہشیار آتے ہیں ہمیں پاگل بنانے کو

    ہمیشہ پاگلوں کے بھیس میں پاگل نہیں آتے

    بہو بیٹی ہماری رزق کو ماتھے لگاتی ہے

    ہمارے پاؤں کے نیچے کبھی چاول نہیں آتے

    کسی کا مرتبہ کوئی بھی کیسے چھین سکتا ہے

    ہرے ہوتے بھی ہیں تو سبزیوں میں پھل نہیں آتے

    پہن کے ہم انہیں بچپن ترے کوچے میں آ جاتے

    مگر اب پاؤں میں چھوٹے سے یہ چپل نہیں آتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے