Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سلسلہ شدت گریہ کا ذرا ٹوٹ گیا

آصف مرزا

سلسلہ شدت گریہ کا ذرا ٹوٹ گیا

آصف مرزا

MORE BYآصف مرزا

    سلسلہ شدت گریہ کا ذرا ٹوٹ گیا

    خواب جاری تھا مگر مجھ کو لگا ٹوٹ گیا

    توڑ کے پہلے سے رکھا تھا کسی نے شاید

    میں نے اس پتلے کو جیسے ہی چھوا ٹوٹ گیا

    تر بتر جسم پسینے سے ہوا غم میں ترے

    سر پہ جیسے مرے پانی کا گھڑا ٹوٹ گیا

    عشق کے پنکھ لگا کر میں اڑا اڑتا پھرا

    اور جب نیچے گرا ایسا گرا ٹوٹ گیا

    تو نے جو دل کو مرے زخم دیا آج بھی ہے

    میں نے جو تیرے لیے خواب بنا ٹوٹ گیا

    اس نے دھیرے سے مرے کان میں کچھ ایسا کہا

    زور سے دل کو مرے دھکا لگا ٹوٹ گیا

    ہاتھ پر ہاتھ دھرے بس میں یہی گاتا پھرا

    دل مرا ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے