سلسلہ شدت گریہ کا ذرا ٹوٹ گیا
سلسلہ شدت گریہ کا ذرا ٹوٹ گیا
خواب جاری تھا مگر مجھ کو لگا ٹوٹ گیا
توڑ کے پہلے سے رکھا تھا کسی نے شاید
میں نے اس پتلے کو جیسے ہی چھوا ٹوٹ گیا
تر بتر جسم پسینے سے ہوا غم میں ترے
سر پہ جیسے مرے پانی کا گھڑا ٹوٹ گیا
عشق کے پنکھ لگا کر میں اڑا اڑتا پھرا
اور جب نیچے گرا ایسا گرا ٹوٹ گیا
تو نے جو دل کو مرے زخم دیا آج بھی ہے
میں نے جو تیرے لیے خواب بنا ٹوٹ گیا
اس نے دھیرے سے مرے کان میں کچھ ایسا کہا
زور سے دل کو مرے دھکا لگا ٹوٹ گیا
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بس میں یہی گاتا پھرا
دل مرا ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا ٹوٹ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.