چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی
چارہ گروں سے ملتا ہوں کم کم کبھی کبھی
زخموں کی مثل ہوتے ہیں مرہم کبھی کبھی
جینے کی آرزو ہے نہ مرنے کا حوصلہ
ایسے جھنجھوڑتا ہے ترا غم کبھی کبھی
ہر بار آپ جانے کی جلدی میں ہوتے ہیں
تھوڑا ٹھہر بھی جاتا ہے موسم کبھی کبھی
پروانے بھی تو ہوں گے انہی شب زدوں کے بیچ
رکھنا تم اپنی آنچ کو مدھم کبھی کبھی
سورج بھی اس کے بام سے ٹوٹا ہوا نہ ہو
راضی کبھی کبھار تو برہم کبھی کبھی
وہ اس زمیں پہ ہوتے ہوئے مجھ سے دور ہے
یہ دکھ نکالتا ہے مرا دم کبھی کبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.