بجلی کو میہماں کیے عرصہ گزر گیا
بجلی کو میہماں کیے عرصہ گزر گیا
تعمیر آشیاں کیے عرصہ گزر گیا
رو اے مری حیات حزیں پھوٹ پھوٹ کر
دامن کو ضو فشاں کیے عرصہ گزر گیا
نشتر چبھوئیے کہ مرے زخم ہوں ہرے
اس دل کو گلستاں کیے عرصہ گزر گیا
کچھ تو کرو خیال کہ ہم مسکرا سکیں
غم کو شریک جاں کیے عرصہ گزر گیا
دے اے جنون شوق مجھے پھر کوئی فریب
صحرا کو گلستاں کیے عرصہ گزر گیا
آؤ کہ مل کے ساتھ چلیں رہروان شوق
تنظیم کارواں کیے عرصہ گزر گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.