بیٹھا رہا امید کا ساغر لئے ہوئے
بیٹھا رہا امید کا ساغر لئے ہوئے
ساقی گزر گیا مئے کوثر لئے ہوئے
اپنا ہی دل تھا زخم طلب ورنہ وہ نگاہ
پیکاں لئے ہوئے تھی نہ خنجر لئے ہوئے
دامان دل سے موج بہاراں لپٹ گئی
گزرا جو کوئی زلف معطر لئے ہوئے
مے خانہ ناپسند ہے پیتے ہیں گھر میں شیخ
بس ایک روز آئے تھے ساغر لئے ہوئے
میرا ہی کیا سوال ہزاروں بھٹک گئے
دست طلب میں دامن رہبر لئے ہوئے
کس کے خرام پر یہ قیامت بپا ہوئی
اٹھا یہ کون فتنۂ محشر لئے ہوئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.