آنکھ سے دل کے سوتے ابلتے رہے ہوک اٹھتی رہی اشک چلتے رہے
آنکھ سے دل کے سوتے ابلتے رہے ہوک اٹھتی رہی اشک چلتے رہے
کتنی زرخیز تھی یہ زمیں شہر کی ورد اگتے رہے زخم پھلتے رہے
یہ ہوا رنگ ہے وہ فضا رنگ ہے یہ تمنا وہ تیری ادا رنگ ہے
رنگ نے رنگ باندھے بہت عشق کے رنگ اڑتے رہے دل بدلتے رہے
کتنے خوش رنگ آنکھوں میں رمتے گئے کتنے آہنگ کانوں میں جمتے گئے
پر وہ منظر جو دل میں مچلتے رہے پر وہ نغمے جو سینے میں پلتے رہے
گو مکانی حدیں دور کرتی گئیں ہم زمانی حدوں میں ہم آہنگ تھے
وہ بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتا رہا ہم بھی ہر آن پہلو بدلتے رہے
میں اندھیروں کی دنیا میں روشن رہا میں اجالوں کی دنیا میں مسکن رہا
جتنے سورج مرے دل میں جلتے رہے اتنے سائے مرے ساتھ چلتے رہے
اے خرد مند سن ہم بھی دو بھائی تھے وہ جو حاکم بنے ہم جو رسوا ہوئے
وہ ادھر لعل و گوہر میں تلتے رہے ہم ادھر لعل و گوہر اگلتے رہے
تیرے بعد ایسی ایسی ہوائیں چلیں منزلوں منزلوں راہ تاریک تھی
آس کے جو دیئے تو نے روشن کئے آرزو کے شبستاں میں جلتے رہے
ہائے وہ قافلے نکہت و نور کے ہائے وہ ولولے شوق مجبور کے
ہم سر رہ گذار طرب زار دل پا شکستہ کھڑے ہاتھ ملتے رہے
وہ ادھر زلف خم دار کے سلسلے وہ ادھر شوق بیدار کے مشغلے
تھی کوئی دھن جو راتیں سلجھتی رہیں تھا کوئی شغل جو دن بہلتے رہے
پوچھتے کیا ہو باقرؔ کے شام و سحر وہ بہت دل گرفتہ تھے پہلے مگر
بس کسی طور مر مر کے جیتے رہے بس کسی طور گر گر سنبھلتے رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.