Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھ سے دل کے سوتے ابلتے رہے ہوک اٹھتی رہی اشک چلتے رہے

سجاد باقر رضوی

آنکھ سے دل کے سوتے ابلتے رہے ہوک اٹھتی رہی اشک چلتے رہے

سجاد باقر رضوی

MORE BYسجاد باقر رضوی

    آنکھ سے دل کے سوتے ابلتے رہے ہوک اٹھتی رہی اشک چلتے رہے

    کتنی زرخیز تھی یہ زمیں شہر کی ورد اگتے رہے زخم پھلتے رہے

    یہ ہوا رنگ ہے وہ فضا رنگ ہے یہ تمنا وہ تیری ادا رنگ ہے

    رنگ نے رنگ باندھے بہت عشق کے رنگ اڑتے رہے دل بدلتے رہے

    کتنے خوش رنگ آنکھوں میں رمتے گئے کتنے آہنگ کانوں میں جمتے گئے

    پر وہ منظر جو دل میں مچلتے رہے پر وہ نغمے جو سینے میں پلتے رہے

    گو مکانی حدیں دور کرتی گئیں ہم زمانی حدوں میں ہم آہنگ تھے

    وہ بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کے روتا رہا ہم بھی ہر آن پہلو بدلتے رہے

    میں اندھیروں کی دنیا میں روشن رہا میں اجالوں کی دنیا میں مسکن رہا

    جتنے سورج مرے دل میں جلتے رہے اتنے سائے مرے ساتھ چلتے رہے

    اے خرد مند سن ہم بھی دو بھائی تھے وہ جو حاکم بنے ہم جو رسوا ہوئے

    وہ ادھر لعل و گوہر میں تلتے رہے ہم ادھر لعل و گوہر اگلتے رہے

    تیرے بعد ایسی ایسی ہوائیں چلیں منزلوں منزلوں راہ تاریک تھی

    آس کے جو دیئے تو نے روشن کئے آرزو کے شبستاں میں جلتے رہے

    ہائے وہ قافلے نکہت و نور کے ہائے وہ ولولے شوق مجبور کے

    ہم سر رہ گذار طرب زار دل پا شکستہ کھڑے ہاتھ ملتے رہے

    وہ ادھر زلف خم دار کے سلسلے وہ ادھر شوق بیدار کے مشغلے

    تھی کوئی دھن جو راتیں سلجھتی رہیں تھا کوئی شغل جو دن بہلتے رہے

    پوچھتے کیا ہو باقرؔ کے شام و سحر وہ بہت دل گرفتہ تھے پہلے مگر

    بس کسی طور مر مر کے جیتے رہے بس کسی طور گر گر سنبھلتے رہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے