زخم دل کا یہ شجر سب سے جدا ہوتا ہے
زخم دل کا یہ شجر سب سے جدا ہوتا ہے
دھوپ لگتی ہے تو یہ اور ہرا ہوتا ہے
اب سیاست کی دکانوں کا یہ دستور ہوا
وہی سکہ نہیں چلتا جو کھرا ہوتا ہے
مہر کرتا بھی نہیں مہر سمجھتا بھی نہیں
اور بے مہر جو کہہ دو تو خفا ہوتا ہے
اب کوئی راستہ پوچھے کہ نہ پوچھے اس سے
پر ہر اک شخص میں اک راہنما ہوتا ہے
تیری محفل میں وفا کی تو کوئی قدر نہیں
ہاں مگر تذکرۂ اہل وفا ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.