یہی پیام ہے اس شہر رنگ و بو کے لئے
یہی پیام ہے اس شہر رنگ و بو کے لئے
یہاں اداس رہا اپنے ماہ رو کے لئے
گیا نہ کوئی مرے بعد کوئے قاتل تک
ترس گیا کف قاتل رگ گلو کے لئے
بسی ہوئی تھیں جہاں مہربان آوازیں
وہاں ہم آج ترستے ہیں گفتگو کے لئے
خزاں کے رنگ بھی ایسے برے نہیں لیکن
یہ رنگ ٹھیک نہیں میرے خوبرو کے لئے
یہ دل کی راہ کوئی شاہراہ عام نہیں
یہ راستہ ہے فقط تیری آرزو کے لئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.