زمیں فروش نہیں ہوں زمن فروش نہیں
زمیں فروش نہیں ہوں زمن فروش نہیں
خدا کے شکر سے میں تو وطن فروش نہیں
مشاعرے کے لیے ایک صف میں بیٹھے ہوں
فنا برائے سخن اور سخن فروش نہیں
سرائے دہر میں بالا ہیں نرخ شوخی کے
مگر یہ میں ہوں کہ جو بانکپن فروش نہیں
نہ شمع بزم دلاں اس کے آگے رکھو جسے
بتانا پڑتا ہے میں انجمن فروش نہیں
وہ اور ہیں کہ جو لکھتے ہیں خودکشی پر شعر
ترا فقیر تو ایسا رسن فروش نہیں
دکھا رہا تھا وہ کیا کیا کرامتیں سب کو
پھر اس سے ہم نے کہا اے عدن فروش نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.