ہم کو وفا کی راہ میں کیا کیا نہیں ملا
ہم کو وفا کی راہ میں کیا کیا نہیں ملا
سوز جگر ملا کہیں قلب حزیں ملا
دیوانگان عشق کی دنیا ہی اور ہے
حسن غزال روح میں گوشہ نشیں ملا
دیکھا یہ دل تو آپ کی ہی دسترس میں ہے
رکھ کر کہیں گئے تھے مگر یہ کہیں ملا
کتنی گلاب صورتیں شہر ادا میں تھیں
سچ پوچھئے تو آپ سا کوئی نہیں ملا
دور وصال میں بڑے ہی فاصلے رہے
عہد فراق میں ہمیں دل سے قریں ملا
فیضیؔ ملال عمر ہے چاہت کا پھول بھی
پہنچا کسی کے ہاتھ میں ہم کو نہیں ملا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.