توڑ کر حلقۂ ایام نہیں آ سکتا
توڑ کر حلقۂ ایام نہیں آ سکتا
جا چکا وقت کسی کام نہیں آ سکتا
جلتی آنکھوں کی طلب اور ہی کچھ ہے صاحب
خواب سے خواب کو آرام نہیں آ سکتا
میرا یہ دکھ کہ میں سکہ ہوں گئے وقتوں کا
تیرا ہو کر بھی ترے کام نہیں آ سکتا
تیر لے آئے گا دشمن کو منا کر مجھ تک
جسے بھیجا ہے وہ ناکام نہیں آ سکتا
تیرے شملے کی جگہ سانپ کھڑا ہو جیسے
تیرے سر پر کوئی الزام نہیں آ سکتا
فکر مت کر مری بدنام کہانی میں ظہیرؔ
میرے جیتے جی ترا نام نہیں آ سکتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.