تیز آندھیوں میں اڑتے پر و بال کی طرح
تیز آندھیوں میں اڑتے پر و بال کی طرح
ہر شے گزشتنی ہے مہ و سال کی طرح
کیونکر کہوں کہ در پئے آزار ہے وہی
جو آسماں ہے سر پہ مرے ڈھال کی طرح
یوں بے سبب تو کوئی انہیں پوجتا نہیں
کچھ تو ہے پتھروں میں خد و خال کی طرح
اب تک مرا زمین سے رشتہ ہے استوار
رہن ستم ہوں سبزۂ پامال کی طرح
میں خود ہی جلوہ ریز ہوں خود ہی نگاہ شوق
شفاف پانیوں پہ جھکی ڈال کی طرح
ہر موڑ پر ملیں گے کئی راہزن شکیبؔ
چلئے چھپا کے غم بھی زر و مال کی طرح
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.