کھیل سارا ہے یہاں روٹھی ہوئی تقدیر کا
کھیل سارا ہے یہاں روٹھی ہوئی تقدیر کا
میں نشانہ بن گیا ہوں وقت کی شمشیر کا
شہر کے لوگوں کو کیا معلوم دکھ فٹ پاتھ کا
خاک میں مل جائے گا یہ دبدبہ جاگیر کا
لوگ پتھر مارنے آتے ہیں پاگل جان کر
شور جب کانوں میں گونجا پاؤں کی زنجیر کا
چھین لی ہے گردش دوراں نے آنکھوں کی چمک
رہ گیا دھندلا سا اک خاکہ مری تصویر کا
آستینوں میں چھپائے پھر رہے ہیں سب یہاں
تجربہ ہم کو ہوا ہے وقت کی شمشیر کا
چل دیئے راشدؔ سوئے مقتل اداسی اوڑھ کر
منتظر کوئی نہیں اب خواب کی تعبیر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.