بدلتا ہے زمانہ اپنی چال آہستہ آہستہ
بدلتا ہے زمانہ اپنی چال آہستہ آہستہ
بہ مثل دن گزرتا جائے سال آہستہ آہستہ
مداوا وقت نے ہی کر لیا ہے سارے زخموں کا
تمہارے ہجر پر آیا زوال آہستہ آہستہ
نگاہوں کو اٹھا کر میرے دل کو چھلنی کر ڈالا
نگاہوں کے سنان اب تو نکال آہستہ آہستہ
بہت مدت گزر جانے کے بعد ان کے جواب آئے
کیے تھے ان سے میں نے جو سوال آہستہ آہستہ
محبت دیکھتی کیسے ہے اب حیرت کے عالم میں
فریبی حسن پھیلائے ہے جال آہستہ آہستہ
ابھی تک اس جہاں والوں نے پالے آستینوں میں
کسی ناگن کو تو اس دل میں پال آہستہ آہستہ
یہ ذرے آسمانوں پر ستارے ہونے والے ہیں
فلک کی سمت مجھ کو بھی اچھال آہستہ آہستہ
کسی کی یاد میں دل کو بکھرتے دیکھا ہے ارقمؔ
اسے کہنا مرے دل کو سنبھال آہستہ آہستہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.