صداقت کے تعلق سے قلم کاری نہیں کرتے
صداقت کے تعلق سے قلم کاری نہیں کرتے
بہت سے آئنے بھی آئنہ داری نہیں کرتے
امیر شہر کی مدحت نہ لکھی جائے گی ہم سے
کہ جو خود دار ہیں وہ کار درباری نہیں کرتے
کسی عیار سے اچھی توقع نا مناسب ہے
کہ فصل گل کے ساتھی دکھ میں غم خواری نہیں کرتے
اسے خوش رکھنے کو ہم اپنی بازی ہار جاتے ہیں
کہ جس کو چاہتے ہیں اس سے ہشیاری نہیں کرتے
کہاں یکسانیت ہے ان کے ظاہر اور باطن میں
کہ ہیں جو حق کے حامی وہ ریاکاری نہیں کرتے
ہے جن میں عزم وہ منزل کی جانب بڑھتے جاتے ہیں
بھنور میں رہ کے بھی اظہار دشواری نہیں کرتے
کئی اہل چمن اس بات سے ناراض رہتے ہیں
کہ ہم اعجازؔ کانٹوں کی طرف داری نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.