ڈاکٹر اعجاز رسول کا تعارف
ڈاکٹر اعجاز رسول (اصل نام: سید محمد اعجاز رسول) عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد اور ماہرِ تعلیم ہیں جن کا تعلق بہار کے ادبی مرکز نوادہ سے ہے۔ 28 ستمبر 1962ء کو پیدا ہوئے اور پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے، بی ایڈ اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے اور گورنمنٹ انٹر اسکول، بہار میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
ان کا ادبی سفر 1979ء میں نظم ’’تلخیٔ دوراں‘‘ کی اشاعت سے شروع ہوا۔ ابتدا ہی سے شاعری، تحقیق اور تنقید تینوں میدانوں میں سرگرم رہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد اور ڈاکٹر کلیم عاجز جیسے نامور اساتذہ سے کسبِ فیض کیا، جس کے اثرات ان کی تخلیقات میں علمی گہرائی، فکری سنجیدگی اور تہذیبی شعور کی صورت میں نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری جمالیاتی حُسن کے ساتھ عصری مسائل، انسانی اقدار اور فکری بصیرت کی ترجمان ہے۔
ڈاکٹر اعجاز رسول کی اہم تصنیفات میں 'سہیل عظیم آبادی: تحقیق و تنقید کے آئینے میں' (1989ء)، 'موج میں ساحل' (2015ء) اور 'طوفان میں ساہس' (2018ء) شامل ہیں۔ ان کی غزلیں، نظمیں، تنقیدی مضامین اور تحقیقی مقالات مختلف ادبی جرائد و اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ وہ سیمیناروں، مشاعروں، ٹی وی اور ریڈیو کے ادبی پروگراموں میں بھی فعال شرکت کرتے رہے ہیں۔
ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ، پیر محمد مونس ایوارڈ، فروغِ اردو ایوارڈ اور قومی ایوارڈ برائے نمایاں تعلیمی خدمات شامل ہیں۔ دبستانِ عظیم آباد کی اہم ادبی شخصیات میں شمار ہونے والے ڈاکٹر اعجاز رسول نے اپنی شاعری، تحقیق اور تدریسی خدمات کے ذریعے اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا ہے۔