مجھ کو سچ سچ بتا بھرم رہے گا
مجھ کو سچ سچ بتا بھرم رہے گا
جھوٹی قسمیں نہ کھا بھرم رہے گا
زندگی سے ملے گی رسوائی
خودکشی سے مرا بھرم رہے گا
بارہا میں نے اک شجر سے کہا
اپنا سایہ بڑھا بھرم رہے گا
جب تلک تیرے حافظے میں ہوں
ہاتھ میں ہاتھ کا بھرم رہے گا
کیمرہ مین نے کہا تھا مجھے
اپنے آنسو چھپا بھرم رہے گا
گر صحیفے جلا دیے جائیں
پیشوا کا بھی کیا بھرم رہے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.