جبین شوق ہر اک در پہ خم نہیں ہوتی
جبین شوق ہر اک در پہ خم نہیں ہوتی
ہر اک زمین زمین حرم نہیں ہوتی
کڑی ہے دھوپ تغافل کی پھر بھی اے ہمدم
کسی کی یاد کی پرچھائیں کم نہیں ہوتی
ضیا فروز نہ ہوتیں مسرتیں اتنی
جو دل کے شیشے میں تصویر غم نہیں ہوتی
کبھی کبھی جو بڑھا درد دل تو غم کیوں ہو
کبھی کبھی تو مسرت بھی کم نہیں ہوتی
گمان ہوتا ہے پھر کوئی حادثہ ہوگا
کئی دنوں سے خلش دل کی کم نہیں ہوتی
لکھوں میں کیسے انہیں حال غم بتا اے دل
حدیث درد سپرد قلم نہیں ہوتی
اے نورؔ ملیے ہر اک سے بہ خندہ پیشانی
کہ جھک کے ملنے سے توقیر کم نہیں ہوتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.