یہ میری ہستیٔ جاں میں دیا جلایا ہے
یہ میری ہستیٔ جاں میں دیا جلایا ہے
جمال یار نے ایسا مجھے سجایا ہے
مرے وجود میں خوشبو و رنگ اڑنے لگے
نموئے عشق نے اتنا مجھے سجایا ہے
فلک کے نیچے تو انصاف مل نہیں سکتا
سو اس نے اس لیے روز جزا بنایا ہے
ہجوم گریہ کا سامان ہو چکا تھا میں
یہ کس نے پھر سے مجھے آئنہ دکھایا ہے
قلندروں کی یہ صحبت ہے میرا سرمایہ
خزینہ رمز کا دل کو مرے بنایا ہے
میں آبنائے محبت میں ڈوبنے لگا تھا
ترا خیال کنارے پہ کھینچ لایا ہے
میں ایک نام لکھوں وہ بھی نام ہو تیرا
خیال و حرف و حکایت میں تو سمایا ہے
بس ایک حزن ہے اور وہ بھی راکھ جیسا ہے
عجیب رنگ مری روح پر لگایا ہے
یہ خوش نصیبی کہ تیرا وجود ہے میرا
طلب ہے ایسی کہ ہر پل تجھے کمایا ہے
بہ طرز اہل وفا عشق بانٹنا ہے بشرؔ
اگرچہ دل مرا اپنوں نے ہی دکھایا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.