Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ میری ہستیٔ جاں میں دیا جلایا ہے

مبشر سلیم بشر

یہ میری ہستیٔ جاں میں دیا جلایا ہے

مبشر سلیم بشر

MORE BYمبشر سلیم بشر

    یہ میری ہستیٔ جاں میں دیا جلایا ہے

    جمال یار نے ایسا مجھے سجایا ہے

    مرے وجود میں خوشبو و رنگ اڑنے لگے

    نموئے عشق نے اتنا مجھے سجایا ہے

    فلک کے نیچے تو انصاف مل نہیں سکتا

    سو اس نے اس لیے روز جزا بنایا ہے

    ہجوم گریہ کا سامان ہو چکا تھا میں

    یہ کس نے پھر سے مجھے آئنہ دکھایا ہے

    قلندروں کی یہ صحبت ہے میرا سرمایہ

    خزینہ رمز کا دل کو مرے بنایا ہے

    میں آبنائے محبت میں ڈوبنے لگا تھا

    ترا خیال کنارے پہ کھینچ لایا ہے

    میں ایک نام لکھوں وہ بھی نام ہو تیرا

    خیال و حرف و حکایت میں تو سمایا ہے

    بس ایک حزن ہے اور وہ بھی راکھ جیسا ہے

    عجیب رنگ مری روح پر لگایا ہے

    یہ خوش نصیبی کہ تیرا وجود ہے میرا

    طلب ہے ایسی کہ ہر پل تجھے کمایا ہے

    بہ طرز اہل وفا عشق بانٹنا ہے بشرؔ

    اگرچہ دل مرا اپنوں نے ہی دکھایا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے