Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سارا زمانہ اپنی پریشانیوں میں ہے

شہزاد احمد

سارا زمانہ اپنی پریشانیوں میں ہے

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    سارا زمانہ اپنی پریشانیوں میں ہے

    آزاد جو بھی ہے ترے زندانیوں میں ہے

    کچھ بھی ہو راستے کی تھکن بھولتی نہیں

    دل جستجو میں ہے کہ پشیمانیوں میں ہے

    انسان پا بریدہ ہیں سر سبز ہیں درخت

    شاید کہ زندگی ہی تن آسانیوں میں ہے

    اپنے ہی دل میں وصل کی لذت تلاش کر

    جو لہر کھو گئی ہے انہیں پانیوں میں ہے

    لہرا رہی ہے ریت کف آب کی طرح

    دریا کے ساتھ دشت بھی جولانیوں میں ہے

    آنکھوں میں اشک آئے کہ سیلاب آ گیا

    ساری خدائی دیر سے طغیانیوں میں ہے

    اٹھی تھی خاک سے جو صدا خاک ہو گئی

    لیکن سکوت شب ابھی حیرانیوں میں ہے

    مقدور بھر یہ شہر تو آباد ہو چکے

    امکان جس قدر بھی ہے ویرانیوں میں ہے

    کیا ختم ہو سفر کہ کٹھن ہے یہ راستہ

    اور قافلہ بھی بے سر و سامانیوں میں ہے

    یہ دیکھتا نہیں کہ نوا تلخ ہو گئی

    اپنی طرف سے دل گہر افشانیوں میں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے