سارا زمانہ اپنی پریشانیوں میں ہے
سارا زمانہ اپنی پریشانیوں میں ہے
آزاد جو بھی ہے ترے زندانیوں میں ہے
کچھ بھی ہو راستے کی تھکن بھولتی نہیں
دل جستجو میں ہے کہ پشیمانیوں میں ہے
انسان پا بریدہ ہیں سر سبز ہیں درخت
شاید کہ زندگی ہی تن آسانیوں میں ہے
اپنے ہی دل میں وصل کی لذت تلاش کر
جو لہر کھو گئی ہے انہیں پانیوں میں ہے
لہرا رہی ہے ریت کف آب کی طرح
دریا کے ساتھ دشت بھی جولانیوں میں ہے
آنکھوں میں اشک آئے کہ سیلاب آ گیا
ساری خدائی دیر سے طغیانیوں میں ہے
اٹھی تھی خاک سے جو صدا خاک ہو گئی
لیکن سکوت شب ابھی حیرانیوں میں ہے
مقدور بھر یہ شہر تو آباد ہو چکے
امکان جس قدر بھی ہے ویرانیوں میں ہے
کیا ختم ہو سفر کہ کٹھن ہے یہ راستہ
اور قافلہ بھی بے سر و سامانیوں میں ہے
یہ دیکھتا نہیں کہ نوا تلخ ہو گئی
اپنی طرف سے دل گہر افشانیوں میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.