نہ میں آیا نہ میں لایا گیا ہوں
نہ میں آیا نہ میں لایا گیا ہوں
وہی کن ہوں جو فرمایا گیا ہوں
میں ایسا گیت ہوں کہ ہر زباں سے
ہر اک انداز میں گایا گیا ہوں
حقیقت کھل چکی اس بات کی اب
کہ تڑپا ہوں یا تڑپایا گیا ہوں
مری اپنی نہیں ہے کوئی صورت
ہر اک صورت میں دکھلایا گیا ہوں
بہت بدلے مرے انداز لیکن
جہاں کھویا وہیں پایا گیا ہوں
وجود غیر ہو کیسے گوارا
تری راہوں میں بے سایہ گیا ہوں
شب غم سوز ہستی اور تری یاد
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
انہوں نے جب کہا واصفؔ کہاں ہے
خجل ہستم کہ بے مایہ گیا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.