مرے وجود کو تسلیم کیوں نہیں کرتے
مرے وجود کو تسلیم کیوں نہیں کرتے
یہ لوگ عین کی تفہیم کیوں نہیں کرتے
میں اپنی آدھی گواہی کے ساتھ عورت ہوں
سو مجھ کو ایک پہ تقسیم کیوں نہیں کرتے
یہ آئنہ ہے جو اندر سے خوب صورت ہے
نظر سے چاند کو دو نیم کیوں نہیں کرتے
کوئی تو عہد ہمارے بھی نام ہو جائے
نئے سماج میں ترمیم کیوں نہیں کرتے
سوال یہ ہے کہ ہم عین شین قاف کے بعد
وفا میں حسن کی تجسیم کیوں نہیں کرتے
یہ دو گھڑی کا تعلق نہیں محبت ہے
یہ دل لگی ہے اسے میم کیوں نہیں کرتے
دلوں پہ راج محبت کا دین ہے عنبرؔ
ہم اپنے بچوں کو تعلیم کیوں نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.