Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کوئی اندازہ کرے بات کی گہرائی کا

حامد جیلانی

کوئی اندازہ کرے بات کی گہرائی کا

حامد جیلانی

MORE BYحامد جیلانی

    کوئی اندازہ کرے بات کی گہرائی کا

    چار سو کچھ بھی نہیں وہم ہے بینائی کا

    گھر سے نکلا ہوں سجا کر غم دل چہرے پر

    آپ سامان لیے پھرتا ہوں رسوائی کا

    اب تو وہ خود ہی مجھے دیکھ کے رک جاتا ہے

    اب تو کردار تماشا ہے تماشائی کا

    روز کشکول زمیں بھر کے پلٹ جاتا ہے

    جیسے سورج میں خزانہ ہو توانائی کا

    اپنے گھر آپ ہی در آتا ہے دستک دے کر

    اب تو یوں وقت گزرتا ہے تمنائی کا

    اپنے بارے میں بھی کچھ سوچتے ڈر لگتا ہے

    ایسا لمحہ بھی کبھی آتا ہے تنہائی کا

    کوئی سنتا نہیں حامدؔ تو سنا قبروں کو

    کہیں احساس ہی مٹ جائے نہ گویائی کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے