کوئی اندازہ کرے بات کی گہرائی کا
کوئی اندازہ کرے بات کی گہرائی کا
چار سو کچھ بھی نہیں وہم ہے بینائی کا
گھر سے نکلا ہوں سجا کر غم دل چہرے پر
آپ سامان لیے پھرتا ہوں رسوائی کا
اب تو وہ خود ہی مجھے دیکھ کے رک جاتا ہے
اب تو کردار تماشا ہے تماشائی کا
روز کشکول زمیں بھر کے پلٹ جاتا ہے
جیسے سورج میں خزانہ ہو توانائی کا
اپنے گھر آپ ہی در آتا ہے دستک دے کر
اب تو یوں وقت گزرتا ہے تمنائی کا
اپنے بارے میں بھی کچھ سوچتے ڈر لگتا ہے
ایسا لمحہ بھی کبھی آتا ہے تنہائی کا
کوئی سنتا نہیں حامدؔ تو سنا قبروں کو
کہیں احساس ہی مٹ جائے نہ گویائی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.