Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خواب مر جائیں گے خود بہ خود ایک دن خواب کی چاہ بھی مار دی جائے گی

سفیر صدیقی

خواب مر جائیں گے خود بہ خود ایک دن خواب کی چاہ بھی مار دی جائے گی

سفیر صدیقی

MORE BYسفیر صدیقی

    خواب مر جائیں گے خود بہ خود ایک دن خواب کی چاہ بھی مار دی جائے گی

    آتش دل بھی پڑ جائے گی سرد اور ایک دن قوت آہ بھی جائے گی

    رفتہ رفتہ کٹے گی شب زندگی دھیمے دھیمے جلے گا چراغ بقا

    صبح لائے گی دست صبا میں فنا اور پھر دور تک روشنی جائے گی

    ایک دن میرے کمرے کی ٹھنڈی ہوا سرد کر دے گی میرا بدن اور پھر

    اک لٹکتی ہوئی مردہ رسی کے گرد ایک زندہ کہانی بنی جائے گی

    میرے کمرے کی تنہائیاں مستقل دیتی رہتی ہیں مجھ کو دلاسہ یہی

    ایک دن آپ سے ملنے آئیں گے لوگ ایک دن آپ پر بات کی جائے گی

    موت کی راہ پر زندگی سے پرے بھیڑ کے ساتھ خاموشیوں کی طرف

    جسم بھی گنگناتا ہوا جائے گا روح بھی مسکراتی ہوئی جائے گی

    سوچتا ہوں کہ یہ خندہ لب شوخ جاں ایک دن ناگہاں مر گیا جو سفیرؔ

    پھر کہاں سر چھپائے گا شوق جنوں کس کے گھر خوئے آوارگی جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے