ہلے نہ ہونٹ ترے قرب کے بیاں کے لیے
ہلے نہ ہونٹ ترے قرب کے بیاں کے لیے
یہ ذائقہ ہی نیا ہے مری زباں کے لیے
چلے گا اب تو جزیرہ کسی کنارے کی سمت
کہ ابر باندھ لیا اب تو بادباں کے لیے
نکل پڑے ہو کھلے میں تو کیا درخت کی چھاؤں
فلک ہی تان چلو سر پہ سائباں کے لیے
میں کون کون سے دیوار و در کو یاد کروں
دھڑک رہا ہے مرا دل تو ہر مکاں کے لیے
ہر ایک کرب مرے ہی نصاب میں تو نہیں
یہ کیا کہ میں ہی چنا جاؤں امتحاں کے لیے
کہاں لکھوں کہ نہ پہنچے جہاں پہ وقت کا ہاتھ
قدم کہاں پہ دھروں دائمی نشاں کے لیے
مہک مٹے گی غموں کی کب اے ہوائے چمن
کھلا ہوا ہوں میں کس موسم خزاں کے لیے
نہ اب وہ اپنی تمنا نہ تیری خواہش خاص
میں جی رہا ہوں یہ کس عمر رائیگاں کے لیے
خلا میں پھینک رہا ہوں جلا جلا کے چراغ
بنا رہا ہوں ستارے کچھ آسماں کے لیے
درخت پہنوں بدن پر سنوار لوں شاخیں
کہ پیڑ ڈھونڈ رہا ہے وہ آشیاں کے لیے
ذرا نہ ٹوٹ سکا بحر بے رواں کا سکوت
ہوا چلی ہی نہیں اپنے بادباں کے لیے
بس اک سفید سی تصویر بن گئی ہے عدیمؔ
ملے نہ رنگ مجھے اپنی داستاں کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.