Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہلے نہ ہونٹ ترے قرب کے بیاں کے لیے

عدیم ہاشمی

ہلے نہ ہونٹ ترے قرب کے بیاں کے لیے

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    ہلے نہ ہونٹ ترے قرب کے بیاں کے لیے

    یہ ذائقہ ہی نیا ہے مری زباں کے لیے

    چلے گا اب تو جزیرہ کسی کنارے کی سمت

    کہ ابر باندھ لیا اب تو بادباں کے لیے

    نکل پڑے ہو کھلے میں تو کیا درخت کی چھاؤں

    فلک ہی تان چلو سر پہ سائباں کے لیے

    میں کون کون سے دیوار و در کو یاد کروں

    دھڑک رہا ہے مرا دل تو ہر مکاں کے لیے

    ہر ایک کرب مرے ہی نصاب میں تو نہیں

    یہ کیا کہ میں ہی چنا جاؤں امتحاں کے لیے

    کہاں لکھوں کہ نہ پہنچے جہاں پہ وقت کا ہاتھ

    قدم کہاں پہ دھروں دائمی نشاں کے لیے

    مہک مٹے گی غموں کی کب اے ہوائے چمن

    کھلا ہوا ہوں میں کس موسم خزاں کے لیے

    نہ اب وہ اپنی تمنا نہ تیری خواہش خاص

    میں جی رہا ہوں یہ کس عمر رائیگاں کے لیے

    خلا میں پھینک رہا ہوں جلا جلا کے چراغ

    بنا رہا ہوں ستارے کچھ آسماں کے لیے

    درخت پہنوں بدن پر سنوار لوں شاخیں

    کہ پیڑ ڈھونڈ رہا ہے وہ آشیاں کے لیے

    ذرا نہ ٹوٹ سکا بحر بے رواں کا سکوت

    ہوا چلی ہی نہیں اپنے بادباں کے لیے

    بس اک سفید سی تصویر بن گئی ہے عدیمؔ

    ملے نہ رنگ مجھے اپنی داستاں کے لیے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے