غبار بن کے اٹھا دل میں روشنی کا طلسم
غبار بن کے اٹھا دل میں روشنی کا طلسم
یہ کس مقام پہ لایا تری گلی کا طلسم
اب آئے بھی تو عبث ہے پیام بے خبری
حدود دے بھی چکا ہم کو آگہی کا طلسم
اسیر در بدری ہوں سو میرے ساتھ نہ چل
تجھے بھی خاک نہ کر دے یہ بے گھری کا طلسم
جہاز ران نے دل سے گرا دیے لنگر
چمک رہا تھا تہہ آب جل پری کا طلسم
ہدف ہوا تھا مرا قافلے کا پہلا فرد
کہ جب حواس پہ چھایا تھا آخری کا طلسم
پرانی کھال اتارے گا عونؔ وقت کا سانپ
ہر ایک پل میں سمٹ آئے گا صدی کا طلسم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.