Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گلہ یہی ہے فقط اپنی داستاں سے مجھے

شہزاد احمد

گلہ یہی ہے فقط اپنی داستاں سے مجھے

شہزاد احمد

MORE BYشہزاد احمد

    گلہ یہی ہے فقط اپنی داستاں سے مجھے

    وہ ٹوک دیتے ہیں ہر بار درمیاں سے مجھے

    یہ اور بات کہ سیل رواں میں میں بھی ہوں

    پکارتا ہے وہ گرتے ہوئے مکاں سے مجھے

    میں سوچتا ہوں یہ آواز بھی مری تو نہیں

    صدائیں دیتا ہے اک شخص کارواں سے مجھے

    کیا سلوک جو دشمن سے بھی نہیں کرتے

    برا بھلا نہ کہا آپ نے زباں سے مجھے

    گراں بہت ہوں میں بے مائیگی ہزار سہی

    خرید لائے ہو تم کون سی دکاں سے مجھے

    وجود جس کا نہیں اس کا غم بڑی شے ہے

    سکوں ملا ہے بہت رنج رائیگاں سے مجھے

    نہ چھوڑتا ہوں سفینہ نہ چھوڑ سکتا ہوں

    ہوا نے باندھ دیا جیسے بادباں سے مجھے

    بلا رہا ہے مجھے بار بار اسی کی طرف

    خدا نے پھینک دیا تھا جس آسماں سے مجھے

    یہ اور بات کہ اب خود بھی اک خرابہ ہے

    وہ دل کے خوف دلاتا رہا خزاں سے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے