گلہ یہی ہے فقط اپنی داستاں سے مجھے
گلہ یہی ہے فقط اپنی داستاں سے مجھے
وہ ٹوک دیتے ہیں ہر بار درمیاں سے مجھے
یہ اور بات کہ سیل رواں میں میں بھی ہوں
پکارتا ہے وہ گرتے ہوئے مکاں سے مجھے
میں سوچتا ہوں یہ آواز بھی مری تو نہیں
صدائیں دیتا ہے اک شخص کارواں سے مجھے
کیا سلوک جو دشمن سے بھی نہیں کرتے
برا بھلا نہ کہا آپ نے زباں سے مجھے
گراں بہت ہوں میں بے مائیگی ہزار سہی
خرید لائے ہو تم کون سی دکاں سے مجھے
وجود جس کا نہیں اس کا غم بڑی شے ہے
سکوں ملا ہے بہت رنج رائیگاں سے مجھے
نہ چھوڑتا ہوں سفینہ نہ چھوڑ سکتا ہوں
ہوا نے باندھ دیا جیسے بادباں سے مجھے
بلا رہا ہے مجھے بار بار اسی کی طرف
خدا نے پھینک دیا تھا جس آسماں سے مجھے
یہ اور بات کہ اب خود بھی اک خرابہ ہے
وہ دل کے خوف دلاتا رہا خزاں سے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.