اپنا وجود حد سے اضافی لگا مجھے
اپنا وجود حد سے اضافی لگا مجھے
تیری نظر کا وار بھی شوخی لگا مجھے
تیرے بدن سے رنگ چراتی ہیں تتلیاں
تیرے بغیر پھول بھی باسی لگا مجھے
مطلب کی ڈور ہیں سبھی رشتے فریب ہیں
سب سے بچھڑ کے رونا رہائی لگا مجھے
تیری قبا کا نور متاع حیات ہے
تیرے بدن کا عکس خدائی لگا مجھے
تیرے بغیر جینا جہنم سے کم نہیں
تیرے بغیر ہنسنا دہائی لگا مجھے
تکتا ہے اس کا حسن توقف کیے بغیر
کاشفؔ یہ آئنہ بڑی ہستی لگا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.