Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں نے کاڑھے ہیں کئی نقش مگر دیواریں

سفیر صدیقی

میں نے کاڑھے ہیں کئی نقش مگر دیواریں

سفیر صدیقی

MORE BYسفیر صدیقی

    میں نے کاڑھے ہیں کئی نقش مگر دیواریں

    دیکھتی رہتی ہیں پیہم مرا سر دیواریں

    نوچتا رہتا ہوں میں اپنے بدن ریزے ادھر

    پیتی رہتی ہیں مرا خون ادھر دیواریں

    خشک آنکھیں لیے جم جاتا ہے اک سرد بدن

    اور پگھل جاتی ہیں با دیدۂ تر دیواریں

    دن میں دیوانوں سا ہنستا ہوں شب ہجر پہ میں

    رات میں لیتی ہیں دن بھر کی خبر دیواریں

    میرے کمرے میں برستی ہے مسلسل وحشت

    ایسی وحشت کہ ہوئی جاتی ہیں سر دیواریں

    بس خدا خیر کرے وجد میں ہیں آج سفیرؔ

    وحشت ضبط کی منظور نظر دیواریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے