میں نے کاڑھے ہیں کئی نقش مگر دیواریں
میں نے کاڑھے ہیں کئی نقش مگر دیواریں
دیکھتی رہتی ہیں پیہم مرا سر دیواریں
نوچتا رہتا ہوں میں اپنے بدن ریزے ادھر
پیتی رہتی ہیں مرا خون ادھر دیواریں
خشک آنکھیں لیے جم جاتا ہے اک سرد بدن
اور پگھل جاتی ہیں با دیدۂ تر دیواریں
دن میں دیوانوں سا ہنستا ہوں شب ہجر پہ میں
رات میں لیتی ہیں دن بھر کی خبر دیواریں
میرے کمرے میں برستی ہے مسلسل وحشت
ایسی وحشت کہ ہوئی جاتی ہیں سر دیواریں
بس خدا خیر کرے وجد میں ہیں آج سفیرؔ
وحشت ضبط کی منظور نظر دیواریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.