جو عکس بھی دیکھو گے وہ صورت ہے ہماری
جو عکس بھی دیکھو گے وہ صورت ہے ہماری
آئینے بدلتی ہوئی وحشت ہے ہماری
کس لیتے ہیں ہر کوس پہ سامان کی گرہیں
اس یاد سوا کون سی دولت ہے ہماری
ہے نقش کف پا میں کئی چشموں کا افسوں
بے ابر زمینوں کو سہولت ہے ہماری
جو سبز رتوں نے ترے لہجے سے چرائے
برسوں انہیں گیتوں پہ ریاضت ہے ہماری
مخصوص نہ رکھ بہر خدا وصل کے لمحے
تجھ فرض سے پہلے تو عقیدت ہے ہماری
سانپوں سے گھرا رہتا ہے خوابوں کا خزینہ
کس نیند میں کھوئی ہوئی قسمت ہے ہماری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.